اجمال[2]

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - [ متروک ]  جمال، خوبصورتی، حسن۔  کف دست آپ نے ستر سہس سال دھریا دے رونق اجلال و اجمال      ( ١٦٨٤ء، عشق نامہ(ق)، مومن، ١٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب 'افعال' سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے "عشق نامہ" کے قلمی نسخے میں ١٦٨٤ء کو مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: جمل
جنس: مذکر